انسانی ذہن اور برتائو کا مطالعہ کار ’’ماہر نفسیات‘‘

0
130

علم نفسیات کا مطالعہ ایک کامیاب کرئیر کا ضامن ہے۔علم نفسیات کا مطالعہ ایک کامیاب کرئیر کا ضامن ہے۔ عام طور پر شعبہ آرٹس کے کورسیس سے متعلق ایک مفروضہ یہ ہے کہ جن طلبہ کے مارکس کم ہیں یا جو پڑھائی میں کمزور ہیں انھیں آرٹس میں داخلہ لینا چاہیے۔ ان کورسیس کو غیر اہم اور کم مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے مناسب سمجھا جاتا ہے لیکن اگر شعبہ آرٹس کی مختلف شاخوں کا مطالعہ کیا جائے تو کئی انتہائی اہم اور قابل ذکر مضامین مثلاً سماجیات، معاشیات، نفسیات اور زبان دانی وغیرہ کے مضامین کی بڑی اہمیت ہے۔ آج ہم بالخصوص علم نفسیات سے متعلق چند اہم اور موجودہ وقت کی ضرورت کے کورسیس پر روشنی ڈالیں گے ۔ علم نفسیات میں کئی کورسیس سرٹیفیکیٹ، ڈپلوما، ڈگری ، پوسٹ گریجویشن اور پی ایچ ڈی سطح کے ہوتے ہیں ان کورسیس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج ’’ماہر نفسیات‘‘ ہونا چند اہم پیشوں میں سے ایک ہے ۔ نفسیات سے متعلق یہ کورسیس ملک و بیرون ملک کئی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے ہیں ۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد بھی علم نفسیات کی اہمیت کی بنا پر ان کو رسیس میں داخلہ لیتے ہیں۔ ان میں قانونی شعبے سے وابستہ افراد،  میڈیکل اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد اور کاروبار میں مختلف خدمات انجام میں انجام دینے والے افراد شامل ہیں۔ نفسیات ایک ایسا علم ہے جو انسان کے ذہنی افعال اور برتائو کا مطالعہ کرتا ہے۔ یہ مطالعہ عمل و حرکات، رد عمل ، جذبات اور ذہنی نوعیت کاہوتا ہے۔ نفسیات ایک بین مضامینی شعبہ ہے جو حصول تعلیم کے ایک سے زائد شعبوں پر مشتمل ہے ان شعبوں میں علم حیاتیات، طب، زباندانی، فلسفہ، انسان شناسی، سماجیات اور مصنوعی ذہانت شامل ہیں۔ علم نفسیات کا کورس بنیادی طور پر تاریخ، انسانی ارتقاء اور انسانی زندگی پر سماجی اثرات کی معلومات فراہم کرتاہے ، خوابوں کی تعبیر ، بچوں کی نشوو نما ، شخصیت میں بے ضابطگی اور اس کے علاوہ کئی شعبہ ہائے حیات کی گہری معلومات اور گہری سمجھ فراہم کرتاہے۔ اسے بطور پیشہ اختیار کرنے والا شخص ’’ماہرِ نفسیات ‘‘ کہلاتا ہے۔ علم نفسیات میں کیے جانے والے ڈگری ، ماسٹرس و ڈاکٹریٹ لیول کے کورسیسبیچلر آف آرٹس (بی اے ) ان اپلائیڈسائیکالوجی، ماسٹر آف آرٹس (ایم اے) ان اپلائیڈ سائیکالوجی، ایم اے ان کونسلنگ، ایم اے ان فلاسفی اینڈ اپلائیڈ سائیکالوجی، ایم فل ان سائیکالوجی، پی ایچ ڈی ان سائیکالوجی، پی ایچ ڈی ان اسٹریس انالیسس وغیرہ۔ڈپلوما اور پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما کورسیسنفسیات کے شعبے میں الگ الگ اختصاص (اسپیشالائزیشن) کے کئی ڈپلوما اور پوسٹ گریجویٹ (پی جی) ڈپلوما کورسیس دستیاب ہیں۔ جنھیں علم نفسیات کا ایک گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ طالبعلم اپنے ذوق اور دلچسپی کی بنیاد پر منتخب کرسکتا ہے۔ ان کورسیس میں ڈپلوما ان چائلڈ سائیکالوجی، ڈپلوما ان کائونسلنگ سائیکالوجی، پی جی ڈپلوما ان اپلیکیشن آف سائیکالوجی، پی جی ڈپلوما ان کلینیکل سائیکالوجی، پی جی ڈپلوما ان فیمیلی اینڈ چائلڈ سائیکالوجی، پی جی ڈپلوما ان مینٹل ہیلتھ کائونسلنگ، پی ڈپلوما ان ری ہیب (باز آبادکاری) سائیکالوجی، پی جی ڈپلوما ان اسپورٹس سائیکالوجی اور پی جی ڈپلوما ان کریمنل سائیکالوجی وغیرہ شامل ہیں۔علم نفسیات کا مواد مضمون اور مقاصد علم نفسیات کے مختلف شعبوں میں سماجی نفسیات، اطفالی نفسیات، پیشہ ورانہ نفسیات، طبی نفسیات، تعلیمی نفسیات اور تجرباتی نفسیات وغیرہ کا مطالعہ شامل ہیں۔ ان شعبوں کا مطالعہ یادداشت، آموزش، ماحول اور برتائو کے علاوہ مشاہدے ، مشورے اور عادت میں مداخلت کے عملی کاموں پر مشتمل ہے۔ ایک ماہر نفسیات انسانی برتائو اور ذہن کا مطالعہ کرتا ہے اور مختلف عادتوں اور برتائو کے تجزیہ کی بناء پر مشاورت یا کونسلنگ کرتا ہے۔ ضروری قابلیت ماہر نفسیات کے پاس کسی میڈیکل ڈگری کا ہونا لازمی نہیں ہے۔ لیکن انھیں انسانی نفسیات کے مختلف پہلوئوں کا کئی برسوں پر محیط مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ علم نفسیات کو بطور مضمون گیارہویں اور بارہویں کی سطح پر، گریجویشن، پوسٹ گریجویشن ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اختیارکیا جاسکتا ہے۔ گیارہویں ،بارہویں کی سطح پر نفسیات کے ساتھ دیگر سماجی علوم کے مضامین کا بھی مطالعہ کیا جاتا ہے جبکہ گریجویشن کی سطح پر اسے اختصاص (اسپیشالائزیشن) کے ساتھ اختیار کیا جاسکتاہے۔ روزگار کے مواقع ایک ماہر نفسیات کئی شعبوں میں کام کرسکتا ہے۔ ان شعبوں میں یونیورسٹی اور کالیجیز، پرائمری اور سیکنڈری اسکولس، حکومتی ایجنسیاں، نجی صنعتیں، اسپتال، کلینک اور ذاتی پریکٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف سماجی اداروں میں بھی روزگار کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ نفسیات میں ماسٹرڈگری یافتہ افرادتحقیق کے شعبے میں بطور معاون کام کرسکتے ہیں، جبکہ نفسیات مضمون سے گریجویٹ افراد کمیونٹی ہیلتھ مراکزاور ری ہیبی لیٹیشن مراکز (باز آبادکاری مراکز)اور شعبہ ٔ انتظام و انصرام میں معاون کے طور پر اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔حکومتی سطح پر وزرت برائے خارجہ امور کے ثقافتی شعبے کے علاوہ مرکزی شعبہ برائے فلم سینسربورڈ ، حکومت ہند کا فلم ڈویژن ، وزارتِ معلومات نشر و اشاعت، دفاعی خدمات، آل انڈیا ہینڈی کرافٹس بورڈ، وزارتِ تعلیم اور شعبہ سیاحت وغیرہ میں بھی ملازمت کے مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔ کن اداروں میں ملازمتیں ملتی ہیں ؟فلاحی تنظیموں، تحقیقی اداروں، ری ہیبیلیٹیشن سینٹرس(باز آبادکاری مراکز)، جیل(بالخصوص جیل برائے اطفال ونوجوانان) ،رہنمائی و مشاورتی مراکز، تشہیری ایجنسی وغیرہ اداروں میں ماہر نفسیات کا تقرر کیا جاتا ہے۔ ایک ماہر نفسیات طبی سائیکالوجسٹ، مشاورتی سائیکالوجسٹ، سماجی سائیکالوجسٹ، تعلیمی سائیکالوجسٹ، صنعتی سائیکالوجسٹ، تحقیقی سائیکالوجسٹ، ترقیاتی سائیکالوجسٹ وغیرہ کے طور پر کام کرسکتا ہے۔ مختلف اداروں میں کیا ذمہ داریاں ہوتی ہیں ؟ایک ماہر نفسیات انسانی ذہن اور برتائو کا تجزیہ کرتا ہے اور بالخصوص ذہنی انتشار کا شکار افراد کا مشاورت کے ذریعے علاج کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سماجی سطح پر میاں بیوی کے درمیان جھگڑوں کی صورت میں ان کی مشاورت و رہنمائی کرنا، تعلیم سے بھاگنے یا اسکول میں ذہنی تنائو کا شکار طلبہ کی مشاورت، مختلف صنعتی شعبوں یا کارپوریٹس میں مارکیٹنگ اور تنائو سے پُر شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین کو ذہنی تنائو سے بچنے میں رہنمائی ، سنگین جرائم یا کم سن مجرمین کی کائونسلنگ وغیرہ چند اہم امور ہیں جو ایک ماہر نفسیات اپنے علم، تجربے اور تجزیے کی بنیاد پر انجام دیتا ہے۔ ہندوستان میں علم نفسیات میں گریجویشن و پوسٹ گریجویشن کی تعلیم فراہم کرنے والی اہم یونیورسٹیاںو کالیجزویسے تو نفسیات بحیثیت مضمون ہندوستان کی تقریباً تمام یونیورسٹیوں اور ان سے ملحقہ کالیجیز میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی سطح پرپڑھایا جا تا ہے لیکن ملک کی چند اہم یونیورسٹیاں جہاں اس کا نصاب عمدہ اور اس شعبے کی قومی و بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ہوتی ہے وہ درج ذیل ہیں۔  ٭دہلی یونیورسٹی  ٭جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی)  ٭امبیڈکر یونیورسٹی (دہلی)   ٭ پنجاب یونیورسٹی (چندی گڑھ)  ٭بنارس ہندو یونیورسٹی (وارانسی)  ٭علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ)  ٭فرگیوسن کالج (پونے)  ٭کرائسٹ یونیورسٹی (بنگلور)   ٭  ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیس (ممبئی)  ٭ گوتم بدھ یونیورسٹی وغیرہ۔  مومن فہیم احمد عبدالباری  لیکچرر صمدیہ جونیر کالج، بھیونڈی  9970809093 [email protected]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here