پاکستان اور بھارت سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کی شکایات دور کرنے پر رضامند

0
44

سرینگر// پاکستان اور بھارت نے دونوں ممالک میں سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کی شکایات کو دور کرنے پر اتفاق کرلیا۔جے کے این ایس مانٹرنگ کے مطابق پاکستان اور بھارت نے دونوں ملکوں میں سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کی شکایات کا ازالہ کرنے کیلئے اتفاق کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ دونوں ممالک سفارتکاروں اور سفارتی عملے کے ساتھ برتاو  کے حوالے سے 1992 کے ضابطہ اخلاق کے تحت ان شکایات کو دور کیا جائے گا۔اس حوالے ہونے والے معاہدے کا اعلان پاکستان کے دفتر خارجہ اور بھارت کے وزارت خارجی امور کی جانب سے بیک وقت ایک بیان میں کیا گیا۔اس بیان کے تحت پاکستان اور بھارت میں سفارتکاروں اور سفارتی عملے کے ساتھ برتاو کے ضابطہ اخلاق 1992 کے مطابق ’ پاکستان اور بھارت باہمی طور پر اس بات پر رضا مند ہوئے ہیں کہ وہ سفارتکاروں اور سفارتی کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو حل کریں گے۔خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات کا آغاز تب ہوا جب پاکستانی سفارتکاروں کو نئی دہلی میں ہراساں کیے جانے کے مختلف واقعات کے بعد بھارتی میں پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود کو مشاورت کے لیے اسلام ا باد واپس بلا لیا تھا، اسی دوران بھارت کی جانب سے بھی یہ اسلام ا باد میں ان کے سفارتکاروں کے ساتھ برتاو  کے حوالے سے شکایت دیکھنے میں ا ئی تھی۔پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ 7 سے 23 مارچ کے درمیان پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے 50 سے زائد واقعات رونما ہوئے تھے۔دوسری جانب بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں مبینہ طور پر ان کے سفارتکاروں کے ساتھ برا سلوک کرنے پر دفتر خارجہ کو احتجاجاً 15 مرتبہ خط بھیجا تھا۔واضح رہے کہ پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب اسلام ا باد میں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ بھارتی ہائی کمیشن کے رہائشی کمپلیکس پر کام کرنے والے نجی ٹھیکے داروں کے ملازمین سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کریں، تاہم نئی دہلی کی جانب سے اس ضرورت کو غلط سمجھا گیا اور وہاں کے اداروں نے پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنا شروع کردیا۔اس معاملے کو حل کرنے کے ہونے والی بات میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود گزشتہ ہفتے واپس نئی دہلی گئے، اس کے ساتھ ساتھ پس پردہ مذاکرات کے بعد ان کا اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کے عرس میں شرکت ممکن ہوئی تھی۔اس طرح اسلام ا?باد میں یوم پاکستان کی تقریب میں ایک طویل عرصے کے بعد بھارتی سفارتکاروں نے بھی شرکت کی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here