وزیر اعظم کی نوجوان موجدوں سے کسانوں کو فصل میں پانی کی مقدار بتانے والا ‘سینسر’ تیار کرنے کی اپیل

0
41

وارانسی، 31 مارچ (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے نوجوان موجدوں کو ملک میں موجودہ پانی بحران کی تباہ کن صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے اس سے نمٹنے کا راستہ نکالنے اور فصلوں میں پانی کی مطلوبہ مقدار سے کسانوں کو تین گھنٹے پہلے آگاہ کرنے والا ‘سینسر’ تیار کرنے کی اپیل کی ہے ۔ مسٹر مودی نے ملک بھر کے نوجوان موجدوں سے کہا کہ وہ کوئی ایسا ‘سینسر’ تیار کریں، جس سے کسانوں کو تین گھنٹے پہلے ہی پتہ چل سکے کہ کھیتوں میں لگی ان کی فصلوں میں کتنا پانی موجود ہے اور وہ کتنی دیر تک اس کی ضروریات پورا کرنے میں قابل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے تیار ہونے سے پانی کی بربادی رکے گی اور کسانوں کو فصل تیار کرنے میں اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ وہ مناسب وقت پر ضرورت کے مطابق ہی فصلوں میں پانی پھنچائے گا۔ انہوں نے ملک بھر کے 28 مراکز پر منعقد ‘اسمارٹ انڈیا ھیکاتھن -2018″ (سافٹ ویئر ورژن) کے گرینڈفنالے میں شامل تقریبا ایک لاکھ طلباء سے بات چیت کے لئے کاشی ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) مرکز پر موجود نوجوان موجدوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان سے یہ اپیل کی۔ وزیر اعظم نے بی ایچ یوکے مہاراجہ وبھوتی نارائن سنگھ انڈور اسٹیڈیم میں منعقد ایک پروگرام میں کل رات نئی دہلی سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے طلباء کو خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آبادی کے تناسب میں دنیا میں ہندوستان کا حصہ 75 فیصد ہے ، لیکن پانی کے معاملہ میں یہ تناسب صرف دو فیصد ہی ہے ۔ ایسے میں یہاں پانی کی تقسیم اور تحفظ کے لئے سب سے بہترین ٹیکنالوجی کے ذریعے ضروری اقدامات کیا جانا وقت کی مانگ ہے ۔ مسٹر مودی نے کہا کہ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لئے بہترین راستے ڈھونڈنے ہوں گے اور اس کے لئے تکنیک کا کس طرح سے ہم استعمال کر سکتے ہیں، یہ نوجوان موجدوں کو غور کرنا ہوگا۔ انہیں کوئی ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنی ہوگی، جس سے پانی کا بحران دور کرنے میں مدد مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر انہوں نے 21 دریاؤں کو بحال کرکے اس کے پانی کا بہتر انتظام کا کام کیا تھا۔ اس کا فائدہ کسانوں کو مل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وارانسی میں بھی کئی ایسی ندیاں ہیں جس کا مناسب فائدہ کسانوں کو نہیں مل پا رہا۔ ان دریاؤں کو پھر سے بحال کرنے اور اس کے پانی کے بہتر انتظام کے اقدامات کرنے ہوں گے ۔ اس موقع پر مرکزی انسانی وسائل کے وزیر مملکت ڈاکٹرستیہ پال سنگھ، بی ایچ یو کے نئے وائس چانسلر پروفیسر راکیش بھٹناگر اور رجسٹرار ڈاکٹر نیرج ترپاٹھی سمیت کئی معزز افرادموجود تھے ۔ قابل غور طلب ہے کہ بی ایچ یو کے مہاراجہ وبھوتی نارائن سنگھ انڈور اسٹیڈیم میں ڈاکٹرستیہ پال سنگھ نے گرینڈ فنالے کا افتتاح کیا تھا۔ اس کے بعد 43 ٹیموں میں شامل 344 نوجوان موجد مختلف قسم کے ایپ اور سافٹ ویئر تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ پانی کے بحران، آبی آلودگی، گنگاکی صفائی، فضائی آلودگی، اناج پیداوار میں اضافہ اور اس کے بہتر انتظام سمیت مختلف مسائل سے منسلک پروجیکٹس پر کام کر رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here