مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ ،کشمیریوں کو حق خود ارادیت کا موقعہ دیا جائے /وزیر اعظم پاکستان

0
39

سرےنگر//پاکستان نے ایک بار پھر اس بات کو واضح کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے بڑھ کر کام کیا۔اسی دوران لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت کشیدگی کے بارے میں وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرامن تعلقات قائم رکھنے کیلئے کوششوں کا خیر مقدم کیا اور وہ تنازعہ کشمیر سمیت تمام مسائل پرامن طور پر حل کرنے کے خواہاں ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی آر می چیف کے ہمراہ لائن آف کنٹرول کے کئی سیکٹروں کا دورہ کرنے کے دوران نمائندوں کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان مسئلے کے پرامن حل کیلئے اس خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ پرعزم ہے، پاکستان امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات کیلئے تیار ہے کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں پر مشتمل ہیں اور انہیں صرف مسئلہ افغانستان کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا مسئلہ بلاشبہ پاکستان کیلئے باعث تشویش ہے اور اس کے حل کیلئے ہم نے بہت کچھ کیا ہے اور اسے شکست دی ہے۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ وہ میرانشاہ کا دورہ کریں اور خود اس بات کا مشاہدہ کریں کہ پاکستان کہ فوج نے کس طرح دہشت گردی کیخلاف جنگ میں عظیم قربانیاں پیش کرتے ہوئے علاقے کو کلیئر کیا ہے۔لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت کشیدگی کے بارے میں پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرامن تعلقات قائم رکھنے کیلیے کوششوں کا خیر مقدم کیا اور وہ اس مسئلے کو پرامن طور پر حل کرنے کا خواہاں ہے۔ عالمی برادری کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اس کوشش میں رہا ہے کہ بھارت اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات بنے رہیں۔ مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ قرار دیتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ستر سال بیت گئے، کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملنا چاہیے تاہم بھارت پاکستان کے خلاف آج بھی بچگانہ حرکتیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے پرامن انداز سے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے دونوں ممالک کو باہمی تعاون کو یقینی بنا کر پر امن انداز سے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔وزیراعظم پاکستان نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں کے ساتھ شمالی وزیرستان بھی ویسا ہی علاقہ ہے تاہم انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) نے وہاں کیا حاصل کیا؟ پاکستان مشترکہ گشت اور چوکیوں کیلئے تیار ہے، ہم نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگائی ہے اور اگر دوسری جانب سے ایسا کیا جاتا ہے تو اس کا خیر مقدم کریں گے۔ دوسری جانب سے دہشت گردوں کی موجودگی، پاکستانی سرحدی علاقوں پر حملوں کے حوالے سے پاکستان کے خدشات دور کرنے کی ضرورت ہے، سرحد کی دوسری جانب سے بہت کچھ ہو رہا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here