مزاحمتی قائدین کی رہائی کوئی احسان نہیں ہے/انجینئر رشید

0
47

سرےنگر//عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئررشید نے سید علی گیلانی اور دیگر راہنما ں کو کھلا چھوڑ دئیے جانے کو بی جے پی کی جانب سے اعتماد سازی کا اقدام بتائے جانے کو حیران کن قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی کو آٹھ سال بعد جمعہ کی نماز پڑھنے کی اجازت دینا کوئی رعایت یا احسان نہیں ہے بلکہ اس سے ظلم کی حد کا پتہ چلتا ہے۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق یہاں ایک تقریب پر بولتے ہوئے انجینئررشید نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی کی طویل نظربندی اس بات کا اعتراف ہے کہ نئی دلی کشمیر میں سیاسی آوازوں کو دباتی آرہی ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ مزاحمتی قائدین کی رہائی عام لوگوں کی بالعموم اور بالخصوص ان قائدین کی اخلاقی جیت ہے کیونکہ انہیں آئے دونوں پاکستان بھیج دیے جانے کی دھمکیاں دینے والوں کو بالآخر ماننا پڑا ہے کہ دھونس دبا  کی پالیسی سے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ مزاحمتی قائدین کے ساتھ جواز اور دلیل کے ساتھ ہی سیاسی طور نپٹا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سید علی شاہ گیلانی کو آٹھ سال بعد نماز کی اجازت دئے جانے سے نام نہاد قومی میڈیا کا یہ پروپگنڈہ بھی بے نقاب ہوا ہے کہ حریت قائدین غیر متعلق ہوچکے ہیں اور انکی عوامی حمایت باقی نہیں رہی ہے۔انجینئررشید نے کہا کہ اگر ان قائدین کو واقعی آزادی کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ملی تو یہ بات زوردار انداز میں صاف ہوجائے گی کہ جموں، کشمیر اور لداخ میں لوگوں کی اکثریت مسئلہ کشمیر کا حل چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جوں کی توں حالت کا برقرار رکھنا کشمیر سے زیادہ خود بھارت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ لوگوں کو پشت بہ دیوار کرنے سے سیاسی خلا پیدا ہوتا ہے اور بے بسی کا احساس خطرناک حالات کو جنم دے سکتا ہے۔نئی دلی سے ابہام سے باہر آکر جرات مندی دکھانے کی اپیل کرتے ہوئے انجینئررشید نے کہا کہ دکھاوے کے اقدامات کی بجائے مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کے اقدامات شروع کئے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ خامیوں، کمیوں اور بعض چھبتے سوالات کے باوجود مزاحمتی قیادت ہی عوامی قربانیوں، خواہشات اور جذبات کی ترجمان ہے اور اسے نظرانداز کرنے یا اسکے کردار کو ختم کرنے کی کوئی بھی کوشش کسی طرح بھی مددگار ثابت نہیں ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی دلی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اسرائیل جیسی بدترین ریاست بھی، فلسطینیوں پر زبردست مظالم ڈھانے اور انکا قتل عام کرنے کے باوجود، دانشمندی کے ساتھ فلسطینیوں کو سیاسی گنجائش ہی فراہم نہیں کرتی ہے بلکہ کہیں بالواسطہ اور کہیں بلا واسطہ انکے ساتھ مذاکرات بھی کرتی رہتی ہے. انہوں نے کہا کہ ایک بار دلی ہٹ دھرمی چھوڑ دے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے ٹھوس اور با معنی اقدامات کرے شدت پسند کہلانے والے ان لوگوں کو، جنہیں روز ہی ٹیلی ویژن پر گالیاں دی جاتی ہیں، انصاف و احترام باہمی کے اصولوں کے تحت سیاسی عمل کا حصہ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ عوام سے چیزوں کا اپنا ہی مطلب نہ نکالنے کی اپیل کرتے ہوئے انجینئررشید نے کہا کہ ان کشمیر مخالف قوتوں کے پروپیگنڈہ پر کان نہیں دھرا جانا چاہیے کہ جو مزاحمتی قائدین کی نقل و حمل پر پابندی ہٹائے جانے کو الگ ہی انداز میں پیش کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں قائدین کو کھلا چھوڑ دئے جانے کے بعد ریاست کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے وہیں عوام کو سمجھ لینا چاہئے کہ نئی دلی کے پاس آپشنز ختم ہو چکے ہیں لہذا زیر بحث اقدام صحیح سمت میں دیر سے اٹھایا گیا اور ضرورت سے کم اقدام قرار پاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here