قرض معافی کے باوجود بنک کسانوں سے وصولی کررہے ہیں : اکھیلیش

0
41

لکھنو،31مارچ (یو این آئی) سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھیلیش یادو نے الزام لگایا کہ اترپردیش میں قرض معافی کے باوجود بنک کسانوں سے وصولی کررہے ہیں۔ مسٹر یادو نے کہاکہ میرٹھ کے جمال پور گاوں کے کسان مدن پال پانڈے پر اسٹیٹ بنک آف انڈیا کا 58682روپے قرض تھا۔ حکومت نے ان کا قرض معاف کرکے سٹی فکیٹ بھی دے دیا تھا لیکن ان کے اکاونٹ میں گنے کی ادائیگی کے 65ہزار روپے آتے ہی بنک نے 58682روپے کاٹ لئے ۔ مسٹر پانڈے سرٹی فکیٹ لیکر در در بھٹک رہے ہیں لیکن کہیں کوئی مدد نہیں مل رہی ہے ۔ انہو ں نے کسان سے نامہ نگاروں کو سرٹی فکیٹ بھی دکھانے کیلئے کہا ۔ کسان کے ساتھ آئے جمال پور کے پردھان گورو چودھری کا کہنا تھا کہ ان کے گاوں کے آس پاس 12گاوں ایسے ہیں ہیں جن میں سے 35کسانوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے کہنے اور کرنے میں فرق ہے ۔ کسان پریشان ہیں ۔ کوئی سننے والا نہیں ہے ۔ خیال رہے کہ یوگی حکومت نے 86لاکھ کسانوں کے ایک لاکھ روپے تک کے قرض معاف کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے لئے 36ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے ۔ ایس پی صدر نے کہاکہ مہوبا میں 27کسانوں نے قرض معافی کے انتظار میں جان دے دی لیکن سرکاری مدد نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملازمت نہیں دے رہی ہے البتہ اعظم خان جیسے ملازمت دینے والوں کے خلاف جانچ کی بات ضرور کررہی ہے ۔ انہوں نے مسٹر خان کو جان بوجھ کر پریشان کرنے کا الزام لگایاا ور کہاکہ حکومت مسٹر خان کو بدنام کررہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کو سی بی آئی اور ای ڈی کا خوف دکھایا جارہا ہے ۔ ایلی ویٹڈ سڑک کا پھر سے افتتاح کیا گیا۔ اسی طرح لکھنؤ میٹر وکا بھی پھر سے افتتاح کیا گیا ۔ مسٹر یادو نے کہاکہ کئی پروجیکٹ ایسے ہیں جو ایس پی حکومت نے بنوائے تھے لیکن افتتاح کرتے وقت وزیراعلی جی ایس پی کا ذکر تک نہیں کرتے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی حکومت کے دوران چلائی گئی کئی اسکیموں کو مرکزی داروں نے نوآبجکیشن سرٹی فکیٹ ہی نہیں دیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here