قانون ساز اداروں میں ملی نمائندگی کا فیصلہ سیاسی پارٹیوں کے بجائے مسلمان خود کریں: کے رحمان خان

0
48

نئی دہلی 31 مارچ [یو این آئی] وقت آگیا ہے کہ ملک کے قانون ساز اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی کا فیصلہ سیاسی پارٹیوں کے بجائے اب خود مسلمان کریں۔ اس تمہید کے ساتھ اقلیتی امور کے سابق مرکزی وزیر کے رحمان خان نے آج کہا کہ مرکزی اور ریاستی پارلیمانی ایوانوں تک پہنچنے والے عوامی نمائندے خواہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں وہ بنیادی طور اپنی ملت کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس لحاظ سے کوئی بھی مسلمان پارلیمانی رکن ہندی مسلمانوں کا نمائندہ ہوتا ہے ۔ اپنے پارلیمانی کیریئر کی تکمیل پردہلی کے اردو صحافیوں سے ایک غیر رسمی ملاقات میں مسٹر خان نے جنہیں اپنی ریاست کرناٹک کے اولین مسلم چارٹر اکاونٹنٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے کہا کہ سیاسی پارٹیاں ملک کی کسی بھی ملت کے رکن کے انتخاب میں اپنے جماعتی مفاد کو مقدم رکھتی ہیں۔ اب یہ ملک کی ایک سے زیادہ ملتوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے کسی انتخاب کو محض خانہ پری کی حد تک محدود نہ رہنے دیں۔ پارلیمانی ایوانوں میں کسی بھی جماعت کے نمائندے کے بنیادی طور پر متعلقہ ملت کا نمائندہ ہونے کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر خان نے مرکزی حج کمیٹی کو اقلیتی امور کی وزارت کا حصہ بنانے کی اپنی کوشش کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ ان کے ہی سیاسی حلقے میں اُن کی اس کوشش کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر اس کی مخالفت کی تھی لیکن وہ اس موقف پر قائم رہے کہ اگر اقلیتی وزارت کی موجودگی فرقہ واریت نہیں تو حج کمیٹی کا اقلیتی وزارت کا حصہ ہونا کیسے غلط ہو سکتا ہے ۔ مسٹر خان نے مسلم پرسنل لا بورڈ جس کے وہ خود بھی رکن ہیں، مسلم ریزرویشن کی کرناٹک نظیر اور وقف املاک کی بازیابی سمیت ایک سے زیادہ امور پر اپنی بساط بھر کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے اس امید کے ساتھ بات ختم کی کہ ملت اسلامیہ ہند کے لئے امکانات کے در بدستور کھلے ہیں ۔دستور کے آرٹیکل 30 سے جس طرح مسیحیوں نے استفادہ کیا مسلمانان ہند نہیں کر سکے ۔یہ سلسلہ آج بھی شروع کیا جائے تو حالات بدلے جا سکتے ہیں۔ مسلمانان ہند کی ایک سے زیادہ پلیٹ فارموں سے موثر نمائندگی کرنے والے مسٹر خان ریاستی اور مرکزی اوقاف، امور حج، اقلیتی بہبود اور نائب چیئر مین کی حیثیت سے راجیہ سبھا کی صدارت سمیت دیگر پارلیمانی ذمہ داریوں کو 1978 سے بخوبی نبھاتے چلے آ رہے تھے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here