سلامتی کونسل کے ارکان غزہ کے حوالے سے اتفاق رائے میں ناکام

0
40

سلامتی کونسل:عالمی سلامتی کونسل نے غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر کشیدہ صورت حال پر بحث کے لیے جمعے کی شام ایک بند کمرے کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ تاہم یہ اجلاس کونسل کے ارکان کے مشترکہ بیان پر عدم اتفاق کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے معاون برائے سیاسی امور تائیبروک زیریہون نے کہا کہ “آئندہ دنوں میں صورت حال مزید بگڑ جانے کا اندیشہ ہے”۔سلامتی کونسل نے کویت کی درخواست پر غزہ پٹی کی حالیہ صورت حال پر بحث کے لیے اجلاس بلایا۔ غزہ پٹی میں ہزاروں فلسطینیوں نے اسرائیلی سرحد کے نزدیک احتجاجی ریلی میں شریک ہو کر وسیع پیمانے پر مظاہرہ کیا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں 16 فلسطینی جاں بحق اور 1400 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ غزہ پٹی میں وزارت صحت کے مطابق یہ 2014ء میں غزہ کی جنگ کے بعد پرتشدد کارروائیوں کے حوالے سے بدترین دن تھا۔ادھر اقوام متحدہ میں فرانسیسی مندوب کا کہنا ہے کہ “یقینا اس وقت حقیقی جارحیت (کشیدگی) کا سامنا ہے۔ غزہ پٹی میں ایک نیا تنازع جنم لینے کا امکان ہے”۔امریکا اور برطانیہ نے اجلاس کے انعقاد کے وقت کے حوالے سے افسوس کا اظہار کیا کیوں کہ جمعے کی شام سے یہودیوں کے تہوار کی تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے اور اس کے سبب ہنگامی اجلاس میں کوئی بھی اسرائیلی سفارت کار یا نمائندہ موجود نہیں تھا۔امریکی نمائندے نے کہا کہ “ہم آج ہونے والے جانی نقصان پر گہرا رنج محسوس کر رہے ہیں”۔ادھر اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل ایک بیان میں حماس تنظیم پر الزام عائد کیا کہ پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔جمعے کے روز بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں فلسطینی احتجاجی ریلی میں شرکت کے لیے غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحد کے متوازی علاقے میں جمع ہو گئے۔ فلسطینیوں کی جانب سے اس ریلی کو “واپسی کے لیے عظیم مارچ” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ احتجاجی تحریک چھ ہفتوں تک جاری رہے گی۔ اس دوران فلسطینی پناہ گزینوں کے اپنے گھروں کو “واپسی کے حق” کا مطالبہ کیا جائے گا اور غزہ پٹی کے اسرائیلی محاصرے کے خاتمے پر زور دیا جائے گا۔فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی مظاہرین کی ہلاکتوں کی “تمام تر ذمّے داری” اسرائیلی حکومت پر عائد کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ نہتّے فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔فلسطینیوں کی جانب سے “واپسی کی ریلی” کا انعقاد فلسطینی اراضی میں “یومِ سرزمین” کے موقع پر ہوا۔ یومِ سرزمین ہر سال 30 مارچ کو اْن 6 فلسطینیوں کی قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے بیالیس سال قبل 1976ء میں اسی دن اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اراضی کا ایک بڑا رقبہ قبضے میں لینے کے خلاف اپنی سرزمین کا دفاع کرتے جان دے دی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here