رہا ہونے کے بعد حریت کانفرنس کے زعماﺅ کو مسئلہ کشمیر پر مباحث میں شریک ہونے کی پوری آزادی دی جانی چاہئے: /سوز

0
50

سرینگر//”حکومت ہند کے مذاکرات کار دنیشور شرما نے سینئر حریت لیڈرسید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق (جو اپنے گھر میں نظر بند تھے )اور محمد یاسین ملک کی رہائی کو حکومت ہند کی طرف سے عنقریب لئے جانے والے اعتماد سازی کے اقدامات کے سلسلے پہلا مرحلہ قرار دیا ہے۔ دنیشور شرما نے حریت کانفرنس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پر امن ، عدم تشدد اور جمہوری طریقے سے ہی اپنے روز مرہ معاملات میں اقدامات اٹھائیں۔دنیشور شرما بخوبی جانتے ہیں کہ حریت کانفرنس نے ہمیشہ اپنا رد عمل ہڑتال (Strike) کے ذریعے ہی کیا ہے جس کے عوامل میں تشدد وابستہ نہیں رہتا۔ میں حریت کے سینئر زعماءکی رہائی کا خیر مقدم کرتا ہوں بشرطیکہ مرکزی و ریاستی سرکار اس موقع کو غنیمت جان کر حریت کانفرنس کے ساتھ ایک با مقصد اور فیصلہ کن مذاکراتی عمل شروع کریں۔میں مرکزی اور ریاستی سرکار کو یہ بھی مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ حریت کانفرنس کو ریاست کے عام لوگوں اور رائے عامہ کے ذمہ دار لوگوں کے ساتھ داخلی سطح پر رابطہ اور مذاکرات میں شامل ہونے کی پوری اجازت دیں۔اس سلسلے میں مرکزی اور ریاستی حکومت کو میں یہ بھی مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس بات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں کہ حریت کے سینئر لیڈر اشرف صحرائی نے شکایت کی ہے کہ اُن کے ایم بی اے (MBA) ڈگر ی یافتہ بیٹے کو پکڑ دھکڑ اور دوسرے طریقوں سے بہت ایذا دی گئی اور ہراسان کیا گیا جس کے نتیجے اُس نے مجبوراً بندوق اٹھائی تاکہ وہ جدوجہد میں شریک ہو جائے۔“

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here