دنیا بھر میں ’گْڈ فرائیڈے‘ کی تقریبات

0
43

روم:دْنیا بھر کے مسیحی آج ’گْڈ فرائیڈے‘ منا رہے ہیں۔ مسیحی عقائد کے مطابق یہ دن روزوں کے ایام کے آخری جمعہ کو یسوع المسیح کو مصلوب کیے جانے اور ان کی صلیبی موت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔مسیحیوں کے روزوں کے ایام کی اختتامی تقریبات کا آغاز گزشتہ اتوار سے ’پام سنڈے‘ یا کھجوروں کے اتوار سے ہوا تھا۔ یہ تقریبات جمعرات کو عروج پر پہنچیں، جب روایات کے مطابق اسی دن یسوع المسیح کو گرفتار کیا گیا تھا۔مسیحی مذہب کے مطابق تب یسوع المسیح نے اپنے اْن بارہ پیروکاروں کے پاؤں دھو کر’عاجزی کا نمونہ‘ پیش کیا تھا، جنہیں’ان کے شاگرد‘ بھی کہا جاتا ہے۔اسی روایات کی مناسبت سے پوپ فرانسس نے جمعرات کی رات روم کی ایک جیل میں بارہ قیدیوں کے پاؤں دھوئے اور انہیں چوما۔ ان قیدیوں میں دو مسلمان اور ایک بدھ مذہب کا ماننے والا بھی شامل تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سزائے موت نہیں دی جانا چاہیے کیونکہ نہ تو یہ مسیحی اقدار کے مطابق ہے اور نہ ہی انسانی۔پوپ فرانسس نے اس موقع پر مزید کہا کہ دنیا میں کئی جنگوں سے بچا جا سکتا تھا اگر عالمی رہنما خود کو کمانڈرز کے بجائے انسانوں کا خدمت گار تصور کرتے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ دنیا کو پرامن مقام بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھنا چاہییں۔’گڈ فرائیڈے‘ کے حوالے سے آج بروز جمعہ 30 مارچ بھی دنیا بھر میں دعائیہ تقریبات منعقد ہو رہی ہے۔ پوپ فرانسس آج جمعے کے دن روم میں Cross Via کے جلوس کی قیادت کریں گے۔ ہفتے کی رات وہ ایسٹر وِجل سروس میں شریک ہوں گے جبکہ بروز اتوار ایسٹر کے دن پوپ فرانسس’اْربی اَیٹ اوربی‘ (’شہر اور دنیا کے نام‘) کے عنوان سے اپنا روایتی خطاب بھی کریں گے اور ایسٹر کا خصوصی پیغام بھی جاری کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایسٹر کی مذہبی تقریبات بھی اپنے اختتام کو پہنچ جائیں گی۔ان دعائیہ اجتماعات کا مقصد دراصل کرائسٹ کے ان دکھوں کو یاد کرنا ہے، جو انہوں نے صلیب پر سہے۔ ایسٹر یا عید قیامت المسیح اتوار یکم اپریل کو منائی جائے گی۔ ایسٹر روزوں کے ایام کے بعد منایا جانے والا اہم مسیحی تہوار ہے۔ اس سے قبل 40 روزے رکھے جاتے ہیں۔ ایسٹر کو ’عید پاشکا‘ یا ’عید قیامت المیسح‘ بھی کہا جاتا ہے، جو دراصل مسیحی عقائد کے مطابق یسوع المسیح کے موت پر فتح پانے اور مردوں میں سے جی اٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here